اس پیج پر میرے وہ تمام متفرق مضامین پائے جاتے ہیں جو کہ میں نے کسی سوال کے جواب میں لکھے ہیں یا میں نے کسی تصور جو کہ میرے فہم کے مطابق ہمارے معاشرے میں غلط تصور کے طور پر عام ہے اس پر تنقید کرنے کے لئے لکھے ہیں۔
چند انتہائی بنیادی سوالات ملحد اور لاادری لوگوں کی خدمت میں عرض ہیں
عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو خدا کے نا ماننے والے ہیں اور جو خدا کی زات کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں وہ ہی سوالات کے جوابات مانگ رہے ہوتے ہیں اہل علم سے اور ان کی تشفی سوالات کے جوابات مل جانے کے بعد بھی نہی ہوتی کیونکہ اکثر سوالات سوائے کج بحثی اور بحث جیتنے کی غرض سے ہی کیے جاتے ہیں، سچا علم حاصل کرنے کی غرض سے نہی۔ اب ہم لوگ جو خدا کی زات پر دل و جان سے ایمان رکھتے ہیں اِن ملحدوں اور لاادریوں سے بھی چند بنیادی سوالات پوچھتے ہیں کیونکہ یہ وہ سوالات ہیں جو خدا کے وجود پر انکار کرنے کی وجہ سے خود بخود عقل کا استعمال کرنے والوں کے دماغوں میں اٹھ جاتے ہیں، اسی لئے اِن ملحدوں اور لاادریوں سے درخواست ہے کہ براہّ مہربانی اِن سوالات پر غور کریں اور آگے بڑھ کر عقلی اور منطقی جوابات دیں اور ہماری اشکالات دور کریں مزید پڑھیے
حضرت عائیشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہ کی عمر شادی کے وقت ۲۹ (29) سال تھی
حضرت عائیشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہ کی عمر شادی کے وقت ۲۹ (29) سال تھی، نا انیس سال اور نا ہی چھ سال جو دین دارطبقہ اس عمل کے حق میں دفاعی رویہ اپناتے ہیں کبھی نا خود اس سنتٌ کو اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں اور نا کبھی اپنی کسی بچی کو چھ سال کی عمر میں بیاہتے ہوئے ملیں گے مگر بضد ہوتے ہیں کہ ہم آنکھ بند کر بس مان لیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ سالہ بچی سے شادی کی تاکہ اُن کے بچے جو تقریباً اُسی عمر کے تھے ، وہ بیوی بن کر اُن کی دیکھ بھال کرسکے۔ یہ عقل میں آتی ہے کہیں سے؟ کہ یہ کوئی بھی کرے گا، مگر تقلید کے مارے عقل کہاں استعمال کرتے ہیں؟ مزید پڑھیے
ملحدوں کے دو بنیادی سوالات کے جوابات
اگر کبھی ملحد لوگوں سے گفتگو کی جائے خدا کے وجود پر تو ان کے دو ہی سوالات ہوتے ہیں جن کے جوابات نا ملنے کی بنا پر وہ خدا کے وجود کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں،۔ اگر خدا ہی کائنات اور اُس کی ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے تو خدا کو پیدا کرنے والا کون ہے؟۔ دنیا میں ہر مذہب اپنے خدا کو ہی اصل خدا مانتا ہے اور ہر دوسرے مذہب کے خدا کو باطل قرار دیتا ہے تو ہم کیسے کہیں کہ کونسا خدا اصل خدا ہے؟ مزید پڑھیے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی
قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کا زکر ان کی پیدائیش کے بعد ان کے گود میں ہوتے ہوئے کا مقالمہ نقل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہےاِس کے بعد وہ بچے کو گود میں لیے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آئی۔ اُنھوں نے (دیکھا تو) کہا: مریم، تم نے یہ بڑی سنگین حرکت کر ڈالی ہے۔اے ہارون کی بہن، نہ تمھارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمھاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔اُس نے جواب میں بچے کی طرف اشارہ کیا ۔ لوگوں نے کہا: ہم اُس سے کیا بات کریں جو گود میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ مزید پڑھیے
کیا مذہب پر یہ الزام صحیح ہے کے اس میں سوچنے سمجھنے، اورتنقیدی نظر یا جائزہ لینے کی پابندی ہوتی ہے؟ مذہب پر یہ الزام کہ اس میں سوچنے سمجھنے، غورو فکر، اورتنقیدی نظر یا جائزہ لینے کی پابندی ہوتی ہے سوائے الزام اور بے بنیاد پروپیگینڈہ کے اور کچھ نہی ۔ اور شاید اس کے ماننے والے سب سے ذیادہ اس پروپگینڈہ کا نا صرف شکار ہوتے ہیں، بلکہ اس کو خود بھی صحیح ہی سمجھتے ہیں اور اس کو اپنے عمل اور مذہب کی تبلیغ میں شامل بھی کرتے ہیں۔ تقریباً ہر مذہب میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو چاہتے ہیں کے مذہب پر ان کی اجارہ داری ہو گی اور وہ جس عمل اور عقیدے کو مذہب کہہ دیں گے بس وہ ہی مذہب کہلائے گا اور ان کا کہنا حرفِ آخر کہلائے گا اور ان پر سوالات نہی اٹھائے جا سکتے اور نا کوئی نئی تحقیق کی گنجائیش ہوگی۔مزید پڑھیے
اندھی تقلید اور مذہب میں عقل کے استعمال پر پابندی
ہمارے مذہبی مدارس اور مذہبی گروہوں میں یہ بات کافی پائی جاتی ہے کہ مذہب میں سوال و جواب نہی ہوتے اور جو کوئی بھی تعلیم دی جائے کسی بھی عالم کی طرف سے وہ بے چوں چرا ماننی ہوتی ہے اور کوئی عقلی سوال نہی کیا جاسکتا تو اس رویہ کو اندھی تقلید کہا جاتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ کہاں سے پیدا ہوئی؟ اس سوال کا جواب ہماری سب سے مقدس مذہبی کتاب قرآن مجید کو پڑھ کر تو نہی مل سکتا کیونکہ اس کا مصنف جو کہ کائنات کا اکلوتا مالک ہے، اس نے اپنی کتاب اتاری تاکہ لوگوں کی تربیت کی جاسکے تو وہ تو لوگوں کے سوالات کے جوابات کو دیتا ہوا نظر آتا ہے اپنی کتاب میں اور لوگوں سے اپنی عقل کا استعمال کرنے کا بار بار کہتا ہے۔ قرآن کریم میں کائنات کے پروردگار نے یہ الفاظ ٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونٌَ تقریباً پچاس دفع استعمال کیے ہیں ایک تحقیق کے مطابق اور اس کے معنی ہیں ٌجو اپنی عقل سے کام لیتے ہیںٌ۔مزید پڑھیے
قرآن مجید بہت ہی واضح الفاظ میں فرما رہا ہے کہ مرنا تو صرف مسلمان ہی مرنا کیونکہ فرقہ بندی کی کوئی گنجائش ہو ہی نہی سکتی جب پروردگار کی طرف سے اس کی انتہائی واضح کتاب آگئی ہے۔ تو یہ سنی، دیوبندی،بریلوی، اہلحدیث، شیعہ وغیرہ کا فرقہ ہونا سوآئے فساد کے اور کچھ نہیں!! بلکہ قرآن نے تو آگے کی آیت میں اس کو ٌکافرٌ ہو جانے سو تعبیر کیا ہے۔مزید پڑھیے
قرآن مجید کی مندرجہ زیل آیات جو کہ ایک زانی مرد اور عورت کی سزا کے حوالہ سے ہےشروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہےزانی عورت ہو یا زانی مرد، سو (اِن کا جرم ثابت ہو جائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے مارو اور اللہ کے اِس قانون (کو نافذ کرنے) میں اُن کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہونے پائے، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو۔ اور اُن کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ بھی وہاں موجود ہونا چاہیے۔ یہ زانی کسی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے گا اور اِس زانیہ کو بھی کوئی زانی یا مشرک ہی اپنے نکاح میں لائے گا۔ ایمان والوں پر اِسے حرام کر دیا گیاہے۔ مزید پڑھیے
اللہ تعالیٰ کا اِس انسانیت پر ایک احسان یہ بھی ہے کہ اُس نے قصاص و دیت کا قانون ہم کو عطا کیا ہے، حالانکہ یہ اور بات ہے کہ ہمارے ملک میں اِس کو صحیح عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اس قانون کے بارے میں یہ کہا ہے کہ’ تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘ مگر ہم تب بھی اس پر صحیح سے عمل پیرا نہیں ہوتے۔آیے اس قانون سے متعلق آیات پر غور و فکر کرتے ہیں؛۔ مزید پڑھیے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ الاعراف کی آیات میں لباس کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ وہ ہتھیار ہے جس کی زریعے شیطان ہمیں فتنے میں بھی مبتلا کرے گا۔ آیات ملاحظہ ہوں:آدم کے بیٹو، ہم نے تم پر لباس نازل کیاہے جو تمھاری شرم گاہوں کو ڈھانکنے والا بھی ہے اور تمھارے لیے زینت بھی، اور تقویٰ کا لباس، وہ اِس سے بڑھ کر ہے۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ لوگ یاددہانی حاصل کریں۔ آدم کے بیٹو، ایسا ہرگز نہ ہو کہ شیطان تمھیں اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے، جس طرح اُس نے تمھارے ماں باپ کو اُس باغ سے نکلوا دیا، اُن کا یہی لباس اتروا کر کہ اُن کی شرم گاہیں اُن پر کھول دے۔ وہ اور اُس کے ساتھی تم کو وہاں سے دیکھتے ہیں، جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِن شیطانوں کو ہم نے اُن لوگوں کا رفیق بنا دیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔قرآن ۷ : ۲۶ ۔ ۲۷۔ مزید پڑھیے
ہمارے یہاں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کم یا زیادہ دینی فہم کے مطابق کسی ”دیندار“ ”مذہبی“ شخص سے کوئی مذہبی بات پر اختلاف کرلے یا نا مانے کیونکہ اُس کو بات سمجھ نہی آئی تو اُس کو بڑی آسانی سے مذہب سے نکال دیا جاتا ہے”کفر“ کا فتویٰ لگا کر۔ اور یا مذہب سے نہی بھی نکالا جاتا تو کم از کم تضحیک کے انداز میں اُس کو ”لبرل“ کہہ کر پکارا جانا شروع کرد یا جاتا ہے۔میں بڑے احترام کے ساتھ اُن سے پوچھنا یہ چاہوں گا کہ اُن کو ”کافر“اور ”لبرل“ کی تعریف بھی پتا ہے ؟ میں کافی اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اُن کو واقعی پتا ہو تو وہ اختلاف کرنے والوں کو کم از کم یہ القاب دینا شائد چھوڑ دینگے اور اس کی جگہ کچھ اور القاب سے نوازیں گے۔ مزید پڑھیے
مستحق شخص کی مدد کرتے رہنا ہے چاہے وہ دانستہ یا غیر دانستہ کسی غلطی کا مرتکب ہوگیا ہو
قرآن مجید کی مندرجہ زیل آیات ملاحظہ ہوشروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہےتم میں سے جو لوگ صاحب فضل ہیں اور جن کو وسعت عطا ہوئی ہے، وہ (اِس معاملے میں کسی کو ملوث دیکھ کر) اِس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اب وہ قرابت مندوں اور مسکینوں او رخدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے۔ (نہیں، بلکہ) اُن کو چاہیے کہ بخش دیں اور درگذر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو بخش دے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ قرآن النور ۲۴ : ۲۲یہ آیات پڑھ کر ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہم سے یہ مطلوب ہے کہ اگر کوئی شخص مسکین اور ضرورت مند ہے۔ مزید پڑھیے
اللہ تعالیٰ نے کون سے اعمال اصول میں حرام کیے ہیں؟
مندرجہ زیل سورۂ الاعراف کی آیات اُن اعمال کی نشاندہی کر رہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر بیان کر کے حرام کیے ہیں:کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔قرآن ۷ : ۳۳۔ مزید پڑھیے
قرآن مجید کی نصیحتیں کہ رسول اللہ ؐ کی تضحیک کی جائے تو کیا رویہ ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وہ آیات نازل کی ہیں جن کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف مواقعوں پر جب رسول اللہ ﷺ کو اُن کے نا ماننے والوں نے مختلف انداز سے تنگ کیا اور تضحیک آمیز رویہ اپنایا تو اُن کو نصیحت کی کہ ایسے مواقعوں پر کس قسم کا رویہ اپنائیں اور رسول اللہ ﷺ نے اسی لحاظ سے وہ رویے اپنائے۔ آیے اُن نصیحتوں پر نظر ڈالتے ہیں جو مختلف مواقعوں پر آئیں اور اُن کو سیکھتے ہیں اور خود بھی اُن پر عمل پیرا ہوتے ہیں جب جب کوئی رسول اللہ ﷺ کی زات کے خلاف تضحیک آمیز رویہ اپناتا ہے۔ مزید پڑھیے
قرآن کی روشنی میں مسلمان مرد کن عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں؟
قرآن مجید نے بڑی صراحت سے وہ رشتے بتا دیے ہیں جس کی وجہ سے مسلمان مرد اُن عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے چاہے کوئی بھی صورت ہو۔ کچھ رشتے ایسے ہیں جو کہ فطرتی طور پر انسان جانتا ہے کہ اُن سے نکاح نہیں کیا جا سکتا مگر کچھ ایسے بھی رشتے ہیں جن میں شاید لوگ غلطی کھا بیٹھیں کہ نکاح کر سکتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے تمام رشتے واضح طور پر بتا دیے جن سے نکاح ممکن نہیں چاہے وہ فطرتی طور پر بھی واضح ہیں۔ مندرجہ زیل آیات ملاحظہ ہوں۔ مزید پڑھیے
مومن کی تعریف ۔ اصل میں مومن کون ہوتا ہے؟ مومن اور مسلمان میں فرق
قرآن مجید نے مسلمان اور مومن میں فرق رکھا ہے، اور اہل ایمان یعنی مومن لوگوں کی خصوصیات بیان کی ہیں، اس حوالے سے مندرجہ زیل قرآن مجید کی آیات ملاحظہ ہوں؛وہ تم سے غنائم کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اِنھیں بتا دو کہ یہ سب غنائم اللہ اور اُس کے رسول کے ہیں۔ اِس لیے اللہ سے ڈرو، اور اپنے آپس کے معاملات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اُس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں اور جب اُس کی آیتیں اُنھیں سنائی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔وہ جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔یہی سچے مومن ہیں۔ اِن کے پروردگار کے پاس اِن کے لیے درجے ہیں، مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔قرآن ۸ : ۱ ۔ ۴۔ مزید پڑھیے
ضمیر کیا ہے؟ یہ ہم انسانوں کو کب دیا گیا؟ یہ ہم انسانوں کو کب ملامت کرتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ہم کو ضمیر جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے تاکہ جس امتحان میں ہم انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ڈالا ہے، جہاں قدم قدم پر ہم کو حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے، وہاں اس نعمت کی بدولت ہم کو رہنمائی ملے کہ ہم حق اور باطل کے درمیان صحیح فیصلے کر سکیں۔ اور اگر ہم کوئی برائی کے یا اخلاقی لحاظ سے غلط فیصلے کریں تو یہ ضمیر ہم کو ملامت کرے اور اس بناء پر ہم صحیح حق پر مبنی فیصلے کریں اور اپنے آپ کو حق پر رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر چلیں۔۔ مزید پڑھیے
